نئی دہلی، 2 ؍فروری (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )دہلی ہائی کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کو فری میں سامان تقسیم کرنے کے انتخابی وعدے کرنے سے روکنے سے متعلق دائر ایک عرضی پر آج مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب مانگاہے ۔چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے یہ واضح کرنے کو کہا کہ انتخابی منشور کو لے کر اس کی گائڈلائن سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں دئیے گئے رہنما خطوط کے مطابق ہیں یا نہیں۔بنچ نے کہاکہ آپ (الیکشن کمیشن)اپنا جواب داخل کریں اور عدالت کو مطلع کریں کہ آپ کے رہنماخطوط سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے مطابق ہیں یا نہیں۔عدالت نے مرکز کو بھی نوٹس جاری کیا اور حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کو 8 ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ۔بنچ نے سماعت کی اگلی تاریخ 24؍مئی طے کی ہے۔ہائی کورٹ دہلی کے رہائشی اشوک شرما کی درخواست پر سماعت کر رہا تھا۔شرما نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کو رائے دہندگان کے درمیان مفت چیزیں تقسیم کرنے سے روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے ، کیونکہ فروری اور مارچ میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم میں اقتدار میں آنے پر فری میں سامان دینے کی مبینہ طور پر پیشکش کی جا رہی ہے۔ایڈووکیٹ اے میتری کے ذریعے داخل کی گئی اس درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے حالیہ رہنما خطوط میں سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر اندازکیا ہے۔